نئی دہلی،27/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر میں آئین کے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بعد وہاں لگائی گئی پابندیوں کو چیلنج دینے والی درخواستوں پر بدھ کو سماعت مکمل کر لی۔اس معاملے میں عدالت فیصلہ بعد میں سنائے گی۔ جسٹس این وی رمن، جسٹس ر سبھاش ریڈی اور جسٹس بی آر گوی کی بنچ نے کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد اور کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا بھسین اور کئی دیگر کی درخواستوں پر تمام فریقوں کو تفصیل سے سننے کے بعد کہا کہ فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا۔آزاد کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ جموں کشمیر میں قومی سلامتی کے مسئلے کو وہ سمجھتے ہیں لیکن اس کی وجہ سے وادی کی پوری 70 لاکھ کی آبادی کو ’تالے میں بند‘ نہیں کیا جا سکتا۔انورادھا بھسین کی جانب سے ایڈووکیٹ ورندا گروور نے ان پابندیوں کو ’غیر آئینی‘بتایا اور کہا کہ ان پابندیوں میں متناسب ٹیسٹ سے گزرنا ہوگاجمو ں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے سالسیٹر جنرل تشار مہتہ نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بعد سابق ریاست میں انٹرنیٹ خدمات پر لگائی گئی پابندیوں کو منگل کو جائزٹھہرایا تھا۔مہتا نے کہا تھا کہ ان کی لڑائی اندر ریاست کے دشمنوں سے ہی نہیں بلکہ سرحد پار سے دشمنوں سے بھی ہے۔انہوں نے آرٹیکل 35 اے ہٹائے جانے کے خلاف سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس پارٹی کے لیڈروں کی تقریروں اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ پوسٹ کا حوالہ دیا۔آرٹیکل 35 اے ریاست کے مستقل باشندوں کو خصوصی حقوق پیش کرتا تھا اور آرٹیکل 370 میں ریاست کو خصوصی درجہ فراہم کرنے سے متعلق دفعات تھے۔مہتا نے سوشل میڈیا ایپ ٹوئٹر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج، افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے باضابطہ ٹوئٹر پر جموں و کشمیر کے عوام کو اکسانے والے ہزاروں پیغام ہیں۔سالسیٹر جنرل نے کہا کہ پاکستانی فوج کا پروپیگنڈہ چل رہا ہے۔اگر ہم نے احتیاطی قدم نہیں اٹھائے ہوتے تو ہم اپنے فرائض کو پورا کرنے میں ناکام ہو جاتے۔انہوں نے کہا کہ اس کا واحد حل یہی ہے کہ یا تو آپ انٹرنیٹ سروس رکھیں یا نہیں رکھیں کیونکہ انہیں اتارنے، بالخصوص اتنے بڑے علاقے میں، بہت ہی مشکل کام ہے۔انہوں نے کہا کہ وہاں حکم لگائی گئی تاکہ لوگ جمع نہیں ہو سکیں کیونکہ ایسا ہونے پر قانون کا مسئلہ کھڑا ہوسکتا تھا۔ مرکز نے بھی 21 نومبر کو آرٹیکل 370 ختم کئے جانے کے بعد جموں و کشمیر میں لگائی گئی پابندیوں کو جائز ٹھہرایا تھا۔مرکز نے کہا تھا کہ احتیاط کے طور پر اٹھائے گئے اقدامات کی وجہ سے وادی میں ایک بھی شخص کی جان نہیں گئی اور نہ ہی سیکورٹی فورس کو ایک بھی گولی چلانی پڑی۔